بسم الله الرحمن الرحيم
کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کی دو بیٹیاں ہیں وہ اور اس کی بیوی نے یہ مشورہ کیا ہے کہ اپنا سارا مال اپنی بیٹیوں کو ہبہ کر دیا جائے ان کا بیٹا کوئی نہیں ہے البتہ شوہر اور بیوی دونوں کے بہن بھائی موجود ہیں جو ان کی وفات کے بعد ان کے مال میں سے وراثت لے سکتے ہیں لیکن یہ زندگی میں سارا مال بیٹیوں کو ہبہ کر دیں تو پھر ان کو کچھ نہیں ملے گا کیا اس طرح کرنا شریعت میں جائز ہے اس پر کوئی گناہ ہو گا یا نہیں؟
الجواب حامدا ومصلیا
ہر شخص اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کا خود مالک ومختار ہوتا ہے، وہ ہر جائز تصرف اس میں کرسکتا ہے، اس میں کسی کی اجازت اور مشورہ کا پابند نہیں ہے البتہ شریعت نے مشورہ کی اہمیت پر زور دیا ہے اس لئے اکیلا فیصلہ کرنے کے بجائے مشورہ کر لیا جائے تو بہتر ہے ،نیز والداگر زندگی میں اپنی جائیداد خوشی ورضا سے اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہے تو کرسکتا ہے، اور اپنی زندگی میں جو جائیداد تقسیم کی جائے وہ ہبہ (گفٹ) کہلاتی ہے اور اولاد کے درمیان ہبہ (گفٹ) کرنے میں برابری بہتر ہے ضروری نہیں، رسول اللہ ﷺ نے اولاد کے درمیان ہبہ کرنے میں برابری کرنے کا حکم دیا ، جیساکہ نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت میں ہے:
ترجمہ:حضرت نعمان ابن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دن ) ان کے والد (حضرت بشیر رضی اللہ عنہ) انہیں رسول کریمﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام ہدیہ کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟، انہوں نے کہا : ”نہیں “، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر (نعمان سے بھی ) اس غلام کو واپس لے لو۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ …… آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔
صورت مذکورہ میں والدین کی طرف سے اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان ہبہ کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ اپنی جائیداد میں سے اپنے لیے جتنا چاہے رکھ لیں تاکہ بوقتِ ضرورت کام آئے، اور بقیہ مال اپنی بیٹیوں میں برابر تقسیم کر کے ان کے قبضہ اور تصرف میں دے دیں، اور بلاوجہ کمی بیشی نہ کریں، ورنہ گناہ ہوگا تاہم خدمت اور دینداری کی وجہ سے کسی کو زیادہ دے سکتے ہیں اور ایک دفعہ ہبہ کرنے کے بعد اس کو واپس لینا بھی جائز نہیں ہے ۔
البتہ باقی وارثوں کو محروم کرنے کی غرض سے زندگی میں جائیداد کو تقسیم کرنا گناہ ہے اگرچہ جن کو ہبہ کر کے باقاعدہ مالک بنا دئیے جائیں تو وہ شرعا مالک بن جائیں گے۔ اس لئے اس سے احتراز بہتر ہے۔
کما فى مشکاۃ المصابيح:
وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال: لا قال: «فأرجعه» . وفي رواية ...... قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم»''۔
(1/261، باب العطایا، ط: قدیمی کتب خانہ)۔
وفى البحر الرائق:
قَوْلُهُ فِي مَحُوزٍ مَقْسُومٍ وَمُشَاعٍ لَا يُقَسَّمُ أَيْ تَجُوزُ الْهِبَةُ فِيمَا ذُكِرَ قَيَّدَ بِالْمَحُوزِ لِأَنَّ الْمُتَّصِلَ كَالثَّمَرَةِ عَلَى الشَّجَرِ لَا تَجُوزُ هِبَتُهُ وَقَيَّدَ الْمُشَاعَ بِمَا لَمْ يُقَسَّمْ لِأَنَّ هِبَةَ الْمُشَاعِ الَّذِي تُمْكِنُ قِسْمَتُهُ لَا يَصِحُّ.
(7/ 286 كتاب الهبة/ دار الكتاب الإسلامي ).
وفى درر الحكام:
(وَتَتِمُّ) عَطْفٌ عَلَى تَصِحُّ (بِالْقَبْضِ) قَالَ الْإِمَامُ حَمِيدُ الدِّينِ رُكْنُ الْهِبَةِ الْإِيجَابُ فِي حَقِّ الْوَاهِبِ؛ لِأَنَّهُ تَبَرُّعٌ
فَيَتِمُّ مِنْ جِهَةِ الْمُتَبَرِّعِ أَمَّا فِي حَقِّ الْمَوْهُوبِ لَهُ فَلَا يَتِمُّ إلَّا بِالْقَبُولِ ثُمَّ لَا يَنْفُذُ مِلْكُهُ فِيهِ إلَّا بِالْقَبْضِ (الْكَامِلِ) الْمُمْكِنِ فِي الْمَوْهُوبِ وَالْقَبْضُ الْكَامِلُ فِي الْمَنْقُولِ مَا يُنَاسِبُهُ وَفِي الْعَقَارِ مَا يُنَاسِبُهُ فَقَبْضُ مِفْتَاحِ الدَّارِ قَبْضٌ لَهَا وَالْقَبْضُ الْكَامِلُ فِيمَا يَحْتَمِلُ الْقِسْمَةَ بِالْقِسْمَةِ حَتَّى يَقَعَ الْقَبْضُ عَلَى الْمَوْهُوبِ بِالْأَصَالَةِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ بِتَبَعِيَّةِ قَبْضِ الْكُلِّ وَفِيمَا لَا يَحْتَمِلُ الْقِسْمَةَ بِتَبَعِيَّةِ الْكُلِّ (وَلَوْ) وَصْلِيَّةً (شَاغِلًا لِمِلْكِ الْوَاهِبِ لَا مَشْغُولًا بِهِ فَتَتِمُّ) تَفْرِيعٌ عَلَى قَوْلِهِ وَتَتِمُّ بِالْقَبْضِ الْكَامِلِ (بِالْقَبْضِ فِي مَجْلِسِهَا) أَيْ فِي مَجْلِسِ الْهِبَةِ (بِلَا إذْنِهِ) أَيْ الْوَاهِبِ (وَبَعْدَهُ) أَيْ بَعْدَ الْمَجْلِسِ (بِهِ) أَيْ بِإِذْنِهِ.
(2/ 218 باب مَا تَصِحّ بِهِ الْهِبَة/ دار إحياء الكتب العربية).
وفى الاختيار لتعليل المختار:
قَالَ: (وَلَا رُجُوعَ فِيمَا يَهَبُهُ لِذِي رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنْهُ أَوْ زَوْجَةٍ أَوْ زَوْجٍ) ; لِأَنَّ الْمَقْصُودَ صِلَةُ الرَّحِمِ وَزِيَادَةُ الْأُلْفَةِ بَيْنَ الزَّوْجَيْنِ، وَفِي الرُّجُوعِ قَطِيعَةُ الرَّحِمِ وَالْأُلْفَةِ ; لِأَنَّهَا تُورِثُ الْوَحْشَةَ وَالنُّفْرَةَ فَلَا يَجُوزُ صِيَانَةً لِلرَّحِمِ عَنِ الْقَطِيعَةِ وَإِبْقَاءً لِلزَّوْجِيَّةِ عَلَى الْأُلْفَةِ وَالْمَوَدَّةِ وَفِي الْحَدِيثِ: «إِذَا كَانَتِ الْهِبَةُ لِذِي رَحِمٍ مَحْرَمٍ لَمْ يُرْجَعْ فِيهَا» ، وَسَوَاءٌ كَانَ أَحَدُ الزَّوْجَيْنِ مُسْلِمًا أَوْ كَافِرًا لِشُمُولِ الْمَعْنَى، وَلَوْ وَهَبَهَا ثُمَّ أَبَانَهَا لَمْ يَرْجِعْ۔
(3/ 52 فصل الرجوع في الهبة/ دار إحياء الكتب العربية)۔
وفى الهندية:
وَمِنْهَا أَنْ يَكُونَ الْمَوْهُوبُ مَقْبُوضًا حَتَّى لَا يَثْبُتَ الْمِلْكُ لِلْمَوْهُوبِ لَهُ قَبْلَ الْقَبْضِ وَأَنْ يَكُونَ الْمَوْهُوبُ مَقْسُومًا إذَا كَانَ مِمَّا يَحْتَمِلُ الْقِسْمَةَ وَأَنْ يَكُونَ الْمَوْهُوبُ مُتَمَيِّزًا عَنْ غَيْرِ الْمَوْهُوبِ وَلَا يَكُونُ مُتَّصِلًا وَلَا مَشْغُولًا بِغَيْرِ الْمَوْهُوبِ حَتَّى لَوْ وَهَبَ أَرْضًا فِيهَا زَرْعٌ لِلْوَاهِبِ دُونَ الزَّرْعِ، أَوْ عَكْسُهُ أَوْ نَخْلًا فِيهَا ثَمَرَةٌ لِلْوَاهِبِ مُعَلَّقَةٌ بِهِ دُونَ الثَّمَرَةِ، أَوْ عَكْسُهُ لَا تَجُوزُ، وَكَذَا لَوْ وَهَبَ دَارًا أَوْ ظَرْفًا فِيهَا مَتَاعٌ لِلْوَاهِبِ، كَذَا فِي النِّهَايَةِ.
(4/ 374 الْبَابُ الْأَوَّلُ تَفْسِير الْهِبَةِ وَرُكْنهَا وَشَرَائِطهَا وَأَنْوَاعهَا وَحُكْمهَا/ دار الفكر)۔