بسم الله الرحمن الرحيم
کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے با رے میں کہ لوگ ہم سے کتا بیں وغیر ہ خریدتے ہیں جن میں سے کچھ لوگوں کو جب وہ کتابیں وغیرہ پسند نہیں آتی تو وہ واپس کردیتے ہیں اس واپسی کے لیے ہم نے کچھ شرائط رکھی ہیں ۔
(۱)تین دن کے اندر خریدی گئی کتاب صحیح حالت میں واپس ہوگی ۔(۲) کتاب پر دکان کی مہر اور بل سا تھ لانالازمی ہوگا ۔(۳) تین دن کے بعدہم واپسی یا تبد یلی کے لیے معذرت خواہ ہوں گے (۴) استعمال شدہ /نام لکھا ہوا/خراب شدہ ،تین دن کے اندر ۲۰فیصد کٹوتی کے ساتھ واپس یا تبدیل ہوگا۔(۵) تین دن کے بعد ۳۰ فیصد کٹوتی کے ساتھ واپس یا تبدیل ہوگا۔(۶) گائیڈ ،خلاصہ اداکردہ رقم کے ۵۰ فیصد کٹوتی کے ساتھ واپس یا تبدیل ہوگا۔ شریعت کی روشنی میں مذکورہ معاملہ اور شرائط ٹھیک ہے یا نہیں ؟ جواب عنایت فر کر عند اللہ مأجور ہوں۔
الجواب حامدا ومصلیا
شریعت مطہرہ نے معاملہ کرنے والے عاقدین ( یعنی تاجراور خریدار)کو مختلف قسم کے خیار (اختیار) کی اجازت دی ہے جن میں سے ایک خیار شرط ہے ۔اور وپ یہ ہے کہ تجارتی معاملہ طے ہوجانے کے متعاقدین کو اس معاملے کے ختم کردینے یا باقی رکھنے کا حق دیا جانا خیا ر شر ط کہلاتا ہے کہ وہ تین دن کے اندر اندر اس معاملہ کو ختم کرنا چا ہیں تو کرسکتے ہیں ، خیار شرط کے ساتھ اس طرح کا معا ملہ کرنا جائز ہے ، تاہم اس کا حکم یہ ہے کہ اگر مدت خیا ر میں بیع کو فسخ کیا جائے تووہ فسخ ہوگی اور اگر اس مدت کے ختم ہونے تک بیع کو برقرار رکھا، یا سکوت کیا تو مدت ختم ہونے کے بعد بیع پختہ ہوجائےگی۔
لہٰذا صورت مسئولہ میں دوقسم کی شرائط ہیں ، شرط نمبر ۱ سے لے کر ۳ تک اس کو خیار شرط کہا جا تا ہے اور یہ عاقدین( یعنی تاجراور خریدار)میں سے ہرایک کے لئے لگا نا جائز ہے۔
شرط نمبر ۴ ،۵، کہ جس میں کتاب وغیرہ کو واپس کرنے پر فیصد کی کٹوتی کی بات کی گئی ہے تو یہ کٹوتی اُسی نقصان کے بقدر درست ہے کہ جتنا کتاب وغیر ہ میں عیب آیا ہے ،چنانچہ اگر کتاب پر نام لکھنے یا استعمال کی وجہ سے اس کی قیمت میں ۱۰فیصد نقصان آیا ہے ، تو دس فیصد اور اگر زیادہ نقصان آیا ہے تو زیادہ وصول کرنا جائز ہے اس سے زیا دہ کٹوتی جائز نہیں ہے لہٰذا اس میں یہ کہنا کہ تین دن کے اندر استعمال شدہ کتا ب وغیرہ کی واپسی ۲۰ فیصد کی کٹوتی اور تین دن کے بعد ۳۰فیصد کٹوتی کے ساتھ ہوگی درست نہیں ہے۔
البتہ شرط نمبر ۶ لگانا جائز نہیں ہے کیو نکہ اس میں بیع مکمل ہوگئی ہے اس لئے اگر خریدار کسی وجہ سے اس مبیع کو واپس کرنا چا ہتا ہے تو شریعت کی اصطلاح میں اس کو اقالہ کہا جاتا ہے اور وہ با ئع کی رضامندی پر موقوف ہے کہ وہ اگر اس فروخت شدہ مبیع کو واپس لینا چا ہے توثمن ِ اول ( یعنی جس قیمت پر معاملہ ہوا تھا) کے ساتھ لے گا فیصد کی کٹوتی کی شرط لگا نا جائز نہیں ہے اور تاجر کو اس پر ثواب بھی ملے گا اور اگر وہ واپس نہ لے تو خریدار ا س پر کوئی زبردستی نہیں کرسکتا ، البتہ اقالہ کرنے اور مبیع کو واپس لینے والے تا جر کے لئے احادیث ِ شریفہ میں بہت سے فضیلتیں وارد ہوئی ہیں :
ایک حدیث میں ہے کہ جو کسی مسلمان کی رعایت کرتے ہوئے اپنا سودا ختم کرتا ہے تو اللہ اس کی کوتاہیوں کو قیامت کے دن ختم کریں گے (الحدیث)
البتہ معاملہ کے درست ہونے کی صورت یہ ہے کہ خریداراگر مبیع کو واپس کرنا چاہتا ہے اور تاجر بھی اس کے لینے پر راضی ہے لیکن فیصدکی کٹوتی کے ساتھ ، تو اس صورت میں فریقین اس کو اقالہ کا یا واپسی کا عنوان نہ دیں ، بلکہ نیا عقد کریں اور جس قیمت پر بھی قریقین راضی ہوجائیں تو اس پر معاملہ کو تا م کرلیں ۔
كما فى سنن ابن ماجه:
عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أقال مسلما، أقاله الله عثرته يوم القيامة»
(2/ 741/باب الإقالة/ دار إحياء الكتب العربية)
وفى الهداية:
"الإقالة جائزة في البيع بمثل الثمن الأول" لقوله عليه الصلاة والسلام: "من أقال نادما بيعته أقال الله عثرته يوم القيامة" ولأن العقد حقهما فيملكان رفعه دفعا لحاجتهما "فإن شرطا أكثر منه أو أقل فالشرط باطل ويرد مثل الثمن الأول".
(3/ 55/ كتاب البيوع/باب الإقالة/ دار احياء التراث العربي)
وفى الفتاوى الهندية:
أما تعريفه فمبادلة المال بالمال بالتراضي كذا في الكافي...... وأما حكمه فثبوت الملك في المبيع للمشتري وفي الثمن للبائع إذا كان البيع باتا.
(3/ 2/3/كتاب البيوع/دار الفكر)
وايضاّ:
قال أبو حنيفة رحمه الله تعالى هي فسخ في حق المتعاقدين بيع جديد في حق غيرهما.
(3/ 156/ كتاب البيوع /الباب الثالث عشر في الإقالة /دار الفكر)
وفى البحر الرائق:
وأما حكمها...... فقال الإمام الأعظم إنها فسخ في حق المتعاقدين بيع جديد في حق ثالث.
(16/ 168/ كتاب البيع/باب الإقالة/موقع الإسلام)
وفى مختصر القدوري:
خيار الشرط : جائز في البيع للبائع والمشتري ولهما الخيار ثلاثة أيام فما دونها ولا يجوز أكثر من ذلك عند أبي حنيفة رحمه الله.
(ص: 38/كتاب البيوع/باب خيار الشرط)
وفى تبيين الحقائق:
قال رحمه الله ( وتصح بمثل الثمن الأول وشرط الأكثر أو الأقل بلا تعيب وجنس آخر لغو ولزمه الثمن الأول ) وهذا عند أبي حنيفة ؛ لأنه لما كانت الإقالة عنده فسخا والفسخ يرد على غير ما يرد عليه العقد كان اشتراط خلاف الثمن الأول باطلا وشرط لعدم جواز اشتراط الأقل عدم التعيب عند المشتري ، وأما إذا تعيب عنده فيجوز بالأقل فيجعل الحط بإزاء ما فات بالعيب ، ولهذا يشترط أن يكون النقصان بقدر حصة ما فات بالعيب ولا يجوز أن ينقص أكثر منه.
(11/ 61/ كتاب البيوع /باب الإقالة/ موقع الإسلام)